ابنا: رامین مہمان پرست نے صربیہ ٹیلی ویژن کے ادارے کے سربراہ نکولا میرکو سے ملاقات میں شام کے بارے میں تہران کے نقطۂ نظر کو واضح اور روشن موقف پر استوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام کے چونسٹھ فیصد عوام نے آئین میں اصلاح کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں شرکت کی یعنی شامی عوام کی اکثریت ان اصلاحات کی حامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام علاقے میں اسرائیل کے جرائم اور مظالم کا مقابلہ کر رہا ہے اور وہ علاقے میں امریکی پالیسیوں پر عمل درآمد کے راستے میں رکاوٹ ہے اور اسی بنا پر بعض ممالک کہ جو علاقے میں اپنے اور اسرائیل کے مفاد کے چکر میں ہیں، بشار اسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں اور یہ بھی ڈکٹیٹر شپ کی ایک اور شکل یعنی اکثریت پر اقلیت کی ڈکٹیٹر شپ ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایٹمی مسئلے کے بارے میں ایران کے موقف اور نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان اولین ملکوں میں شامل ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں شامل ہوئے اور اسی طرح ان اولین ملکوں میں شامل ہے کہ جنہوں نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور وہ ایٹمی ہتھیاروں سمیت ہر قسم کے مہلک ہتھیاروں کا مخالف ہے۔....... /169